اسلام آباد  میں حرمت مسجد اقصٰی کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ حسب استطاعت تمام مسلمانوں پرجہاد فرض ہے، وہ فلسطینیوں کی مدد کوپہنچیں۔

حماس کے لڑنے والوں کو جنگجوکے بجائے مجاہدین کہا جانا چاہیے، عالم اسلام کے پاس وسائل ہیں جو ان کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں، دولت کے باوجود مسلم ممالک غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، آج حماس کے جانبازوں نے آزادی کا موقع فراہم کیا ہے، اگرعالم اسلام متحد ہوکر ساتھ دے تو مغربی طاقتیں کچھ نہیں کرسکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خدائی امریکا کے پاس نہیں اللہ کے پاس ہے، ہمیں جنگ بندی کے بجائے غزہ پر بمباری بندکرنےکا مطالبہ کرنا چاہیے، اسرائیل سے فلسطینیوں  پر مظالم روکنےکا مطالبہ کرنا چاہیے، تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ جب صحیح فیصلہ کیا جائے، پورا  عالم اسلام مغرب کی غلامی کا شکار  ہے، سیاسی معاشی اور فوجی اعتبار سے ہم غلامی کی  زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ  مغربی ممالک خصوصاً امریکا  آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار  دیتے ہیں، یہی معاملہ کشمیریوں کے ساتھ بھی رہا، حماس ایک سیاسی طاقت ہے، وہ صرف لڑنے والے جنگجوؤں کا قافلہ نہیں، اسماعیل ہنیہ نے بتایا کہ مجاہدین کی اکثریت حافظ قرآن ہے، ان مجاہدین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے جب کہ اصل دہشت گرد اسرائیل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے