کابل (خصوصی رپورٹ)

امارت اسلامیہ کی وزارت خارجہ نے مولوی اسد اللہ (بلال کریمی) کو چین میں سفیر تعینات کر دیا جو 24 نومبر 2023 کو چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے اور چین میں افغانستان کے سفارت خانے کے سربراہ، سفارت کاروں اور عملے کے ہمراہ عوامی جمہوریہ چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی نمائندے یو شاؤیونگ اور ان کے وفد نے ان کا استقبال کیا۔

انہوں نے آج اپنی اسناد کی ایک کاپی چین کی وزارت خارجہ کے پروٹوکولز کے سربراہ ہانگ لی کے حوالے کی۔ اس ملاقات میں ہانگ لی نے افغان سفیر کا خیرمقدم کیا اور اسے چین اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی ترقی میں ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین افغانستان کی قومی خودمختاری اور افغانستان کے عوام کے فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی ماضی میں مداخلت کی ہے۔

اسی دوران چین میں افغانستان کے نئے سفیر بلال کریمی نے کہا مجھے چین میں امارت اسلامیہ کے سرکاری سفیر اور غیر معمولی نمائندے کے طور پر اپنا کام شروع کرنے پر خوشی ہے۔

کریمی نے چینی حکام کو یقین دلایا کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور خطے میں استحکام اور سلامتی سب کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے افغانستان میں سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی بحالی، ترقیاتی منصوبوں اور تعمیر نو کے شعبوں میں چین کے اہم کردار کا ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان میں موجودہ استحکام ایک اچھا موقع ہے جس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ چینی حکام نے اس ملاقات میں امید ظاہر کی کہ امارت اسلامیہ کے سرکاری سفیر کی آمد سے چین اور افغانستان کے درمیان مثبت تعلقات مزید مضبوط اور وسعت پائیں گے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل چین کے نئے سفیر نے کابل میں امارت اسلامیہ کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند اور وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کو اپنی تعیناتی کی اسناد پیش کی تھیں اور باضابطہ طور پر انہوں نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کیا تھا اور اس اقدام سے چین پہلا ملک ہوا جس نے باضابطہ طور پر افغانستان میں اپنا سفیر تعینات کیا اور آج امارت اسلامیہ نے چین میں اپنا سفیر سرکاری سطح پر تعینات کیا جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی وسعت میں اہم پیشرفت ہے۔

اس وقت افغانستان میں چین کی دو کمپنیاں سرمایہ کاری کررہی ہیں جن میں ایک صوبہ سرپل میں آمو آئل فیلڈ میں مصروف ہے اور دوسری کمپنی صوبہ لوگر کی مس عینک کان میں سرمایہ کررہی ہے جب کہ دیگر متعدد چینی کمپنیوں نے بھی افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے امارت اسلامیہ کے اعلی حکام سے متعدد بار ملاقاتیں کی ہیں اور متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

اس وقت پڑوسی ممالک سمیت 20 ممالک میں امارت اسلامیہ کے سفیر تعینات ہیں اور ان ممالک کے سفیر کابل میں تعینات ہیں جن میں چین، روس، ترکمنستان، ازبکستان، ایران، پاکستان، قرغزستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

دوسری جانب امارت اسلامیہ کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا ہے کہ بھارت میں افغانستان کا سفارت خانہ تین دن کے اندر دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

ان کے مطابق بمبئی اور حیدرآباد میں افغان قونصلوں نے سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے، میں ان کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ جب کہ دہلی میں بھی دو تین روز میں ہمارا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بمبئی اور حیدر آباد میں افغان قونصل خانے تقریباً دو سال سے کابل میں امارت اسلامیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وزارت خارجہ کے آن لائن اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے