تحریر: سیف العادل احرار

چند روز قبل فلسطین میں حماس کے مجاہدین نے اسرائیلی بربریت کے خلاف “طوفان الاقصیٰ” کے عنوان سے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے پہلے دن انہوں نے تین اطراف )زمین، فضائی اور سمندری( سے اسرائیلی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ جس میں سیکنڑوں اسرائیلی فوجی ہلاک، زخمی اور گرفتار ہوئے اور متعدد علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کیا۔
اس حملے کی شدت اور رفتار دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی اور بڑے بڑے بین الاقوامی سیاسی اور عسکری مبصرین نے اس کے بارے میں طرح طرح کے تجزیے کیے اور اسے اسرائیل اور خاص طور پر اس کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے شرمناک شکست قرار دیا۔ اسرائیل کے اندر بھی حکومت اور فوج کی ناکامی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی اور اس حملے کے بعد حکومت شدید دباؤ میں ہے۔

درحقیقت ان کامیاب کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل کے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کے علاوہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور فوجی شکست کو چھپانے کے لیے اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی اور بعض دیگر علاقوں میں شہریوں کے گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی مراکز پر وحشیانہ بمباری کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں عام شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔
ان فضائی حملوں کے علاوہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے، جہاں 12 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں، اور پانی، بجلی اور ایندھن کو منقطع کر دیا ہے۔ ان تمام ہولناک اور انسانیت سوز مظالم کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور امریکہ نے اپنا سب سے بڑا بحری بیڑہ جو کہ متعدد جنگی طیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے، مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ بڑے پیمانے پر امداد کا اعلان کیا ہے۔

لیکن دوسری طرف عالم اسلام نے ماضی کی طرح ایک بار پھر خاموشی اختیار کر لی ہے، افغانستان، ایران اور چند دیگر اسلامی ممالک کے علاوہ تمام اسلامی ممالک نے سفارتی حمایت تک نہیں کی ہے جوکہ انتہائی مایوس کن صورتحال ہے۔

اسلامی دنیا کے بہت سے ممالک کے پاس اب نئی ٹیکنالوجی سے لیس افواج اور وسیع پیمانے پر عسکری و اقتصادی وسائل موجود ہیں اور فلسطینیوں کی طویل جدوجہد بھی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے ہے جو تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ سب پر لازم ہے کہ وہ اس کا دفاع کریں۔ اس کے باوجود عالم اسلام کی خاموشی اور بے حسی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی غداری ہے جس کے نتائج عالم اسلام کے لیے بھیانک ہوں گے۔

اسلامی ممالک کو متحد ہوکر مسئلہ فلسطین کو پوری امت مسلمہ کا مسئلہ قرار دینا چاہیے، سفارتی، عسکری اور سیاسی لحاظ سے فلسطین کی حمایت کریں، اگر امریکہ اور یورپ کھل کر ایک قابض ریاست کی حمایت کرتے ہیں تو مسلم ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق مسئلہ فلسطین حل کرنے کے لئے آواز اٹھائیں، یہ وہ موقع ہے کہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینے اور ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست کے لئے اپنا کردار ادا کریں، اگر عرب ممالک گیس کی ترسیل بند کرنے کا آپشن استعمال کریں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، لیکن افسوس ہے کہ امت مسلمہ کے جو حکمران ہیں وہ ذاتی مفادات اور اقتدار کو طول دینے کی پالیسی پر کاربند ہیں اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل، ان کو درپیش مشکلات اور مصائب سے لاتعلق ہیں حالانکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے، آج ایک صہیونی اور ناجائز ریاست کی جانب سے مظلوم اور نہتے فلسیطیوں پر جو مظالم ڈھائی جارہی ہے اس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن مسلمانوں اور انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار تنظیموں کا ضمیر بدستور مرا ہوا ہے جس کا حشر میں ضرور جواب دینا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے