اسرائیل نے حماس کے گذشتہ ہفتے کے تباہ کن حملے کو اپنے ملک کے لیے 9/11 کا لمحہ قرار دیا ہے۔ حملے کے پیچھے خفیہ منصوبہ ساز فلسطینی عسکریت پسند محمد ضیف نے اسے طوفان الاقصیٰ کا نام دیا ہے۔

حماس کی جانب سے ہفتے کے روز غزہ کی پٹی سے ہزاروں راکٹ داغے گئے۔ تب ایک آڈیو ٹیپ میں اسرائیل کے مطلوب ترین شخص نے یہ اصطلاح استعمال کی جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ حملہ یروشلم کی مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملوں کا انتقام تھا۔

اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر چھاپے کے بعد جس نے عرب اور مسلم دنیا کو مشتعل کیا، یہ مئی 2021 تھا جب ضیف نے اس آپریشن کی منصوبہ بندی شروع کی جس میں غزہ میں حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق اسرائیل میں 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا، "اسرائیل کی جانب سے ماہِ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ پر یلغار کرنے، نمازیوں کو مارنے پیٹنے، ان پر حملہ کرنے، بزرگوں اور نوجوانوں کو گھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہر نکالنے کے مناظر اور فوٹیج اس کی وجۂ تحریک بنی۔ اس سب نے غصے کو ہوا دے کر مزید بھڑکایا۔

مسجد کے احاطے میں یہ حملہ جو طویل عرصے سے یروشلم میں خودمختاری اور مذہب کے معاملات پر تشدد کا بنیادی نقطہ ہے، اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ لڑائی کو شروع کرنے کی وجہ بن گیا۔

دو سال سے زائد عرصے کے بعد ہفتے کے روز ہونے والے حملے نے جو 1973 کے عرب اسرائیل تنازعے کے بعد اسرائیلی دفاعی نظام کی بدترین خلاف ورزی تھی، اسرائیل کو اعلانِ جنگ کرنے اور غزہ پر جوابی حملے شروع کرنے پر مجبور کیا جس میں منگل تک 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

اسرائیل کے سات قاتلانہ حملوں جن میں حالیہ ترین واقعہ 2021 میں پیش آیا، میں زندہ بچ جانے والا ضیف شاذ و نادر ہی بولتا ہے اور کبھی عوام کے سامنے نہیں آتا۔ چنانچہ جب حماس کے ٹی وی چینل نے اعلان کیا کہ وہ ہفتے کے روز تقریر کرنے والا تھا تو فلسطینیوں کو معلوم تھا کہ کوئی اہم بات ہونے والی تھی۔

ضیف نے ریکارڈنگ میں کہا، "آج الاقصیٰ کا غصہ، ہمارے لوگوں اور قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ اے ہمارے مجاہدین (جنگجو)، آج آپ کا دن ہے کہ آپ اس مجرم کو یہ سمجھائیں کہ اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔”

ضیف کی صرف تین تصاویر ہیں: ایک اس کی 20 کے عشرے کی، دوسری نقاب پوش، اور ایک تصویر اس کے سائے کی ہے جو آڈیو ٹیپ نشر ہونے کے وقت استعمال کی گئی تھی۔

ضیف کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے حالانکہ غالباً وہ غزہ میں محصور سرنگوں کے پیچیدہ اور پرپیچ مقامات میں ہے۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ضیف حملے کی منصوبہ بندی اور انتظامی پہلوؤں میں براہِ راست ملوث تھا۔

دو دماغ، ایک منصوبہ ساز

فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ غزہ میں راتوں رات اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بننے والا ایک گھر ضیف کے والد کا تھا۔ ذرائع کے مطابق ضیف کا بھائی اور خاندان کے دو دیگر افراد اس حملے میں مارے گئے۔

حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حملے کی تیاری کا فیصلہ حماس کے القسام بریگیڈ کے کمانڈر ضیف نے غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے ساتھ مل کر کیا تھا لیکن یہ واضح تھا کہ اس کا معمار کون تھا۔

ذریعے نے کہا، "دو دماغ ہیں لیکن منصوبہ ساز ایک ہے۔” اور مزید کہا کہ آپریشن کے بارے میں معلومات صرف حماس کے چند مٹھی بھر رہنماؤں کے پاس تھیں۔

گروپ کی سوچ سے واقف ایک علاقائی ذریعے کے مطابق رازداری ایسی تھی کہ اسرائیل کا حلیف دشمن اور حماس کے لیے مالیات، تربیت اور ہتھیاروں کا ایک اہم ذریعہ ایران تک صرف عام الفاظ میں جانتا تھا کہ تحریک ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی اور اسے وقت یا تفصیلات کا علم نہیں تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ جبکہ تہران کو اس بات کا علم تھا کہ ایک بڑے آپریشن کی تیاری جاری تھی لیکن حماس، فلسطینی قیادت، ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکریت پسند حزب اللہ اور ایران کے کسی مشترکہ آپریشن روم میں اس پر بات نہیں کی گئی۔

ذریعہ نے کہا، "یہ ایک نہایت تنگ دائرہ تھا۔”۔

ایران کے اعلیٰ حکام علی خامنہ ای نے منگل کو کہا کہ اسرائیل پر حملے میں تہران ملوث نہیں تھا۔ واشنگٹن نے کہا ہے کہ جبکہ تہران ملوث تھا، اس کے پاس ایسی کوئی انٹیلی جنس یا ثبوت نہیں تھا جو حملوں میں ایران کی براہ راست شرکت کی نشاندہی کرتا۔

ضیف کی طرف سے تصور کردہ منصوبے میں فریب دہی کی ایک طویل کوشش شامل تھی۔ اسرائیل کو یہ باور کروایا گیا کہ اسرائیل کے حلیف دشمن ایران کی اتحادی جماعت حماس تنازعہ شروع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی اور اس کے برعکس غزہ میں اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہی تھی جہاں تحریک حکمران طاقت ہے۔

حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا لیکن جب اسرائیل نے غزہ کے کارکنوں کو معاشی مراعات فراہم کرنا شروع کیں تب اس گروپ کے جنگجوؤں کی تربیت اور ڈرل جاری تھی، اکثر اسرائیلی فوج کی نظروں میں۔

حماس کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی براکہ نے کہا کہ ہم نے دو سال اس جنگ کے لیے تیاری کی ہے۔

دھیمی آواز میں بات کرتے ہوئے ضیف نے اپنی ریکارڈنگ میں کہا کہ حماس نے بارہا اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم کو روکے، قیدیوں کو رہا کرے جن کے ساتھ ان کے بقول بدسلوکی اور تشدد کیا گیا اور فلسطینی اراضی پر قبضے کو روکا جائے۔

"ہر روز قابض فوج مغربی کنارے میں ہمارے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں پر حملہ کر دیتی ہے اور گھروں پر چھاپہ مارتی ہے، ہلاک اور زخمی کرتی ہے، تباہ کرتی اور حراست میں لے لیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہماری ہزاروں ایکڑ اراضی کو ضبط کر لیتی ہے، یہودی بستیاں بنانے کے لیے ہمارے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال پھینکا جاتا ہے جب کہ غزہ پر اس کا مجرمانہ محاصرہ جاری ہے۔”

‘سایہ’

ایک سال سے زیادہ عرصے سے مغربی کنارے میں ہنگامہ برپا ہے۔ یہ علاقہ تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) لمبا اور 50 کلومیٹر چوڑا ہے جو 1967 میں اسرائیل کے قبضے کے بعد سے اسرائیل-فلسطینی تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔

ضیف نے کہا کہ حماس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ "قابض فوج کے جرائم” کو ختم کرے لیکن اسرائیل نے اشتعال انگیزی میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس نے ماضی میں اسرائیل سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے انسانی بنیادوں پر معاہدہ کرنے کے لیے کہا تھا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا، "قبضے کا وحشیانہ پن اور بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں سے اس کا انکار اور امریکی اور مغربی حمایت اور بین الاقوامی خاموشی کی روشنی میں ہم نے یہ سب ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔”۔

سن 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قائم کردہ خان یونس پناہ گزین کیمپ میں 1965 میں محمد مسری کے نام سے پیدا ہونے والے عسکریت پسند رہنما 1987 میں شروع ہونے والی پہلی انتفاضہ یا فلسطینی بغاوت کے دوران حماس میں شامل ہونے کے بعد محمد ضیف کے نام سے مشہور ہوئے۔

حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انہیں اسرائیل نے 1989 میں گرفتار کیا تھا اور انہوں نے تقریباً 16 ماہ قید میں گذارے تھے۔

ضیف نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی جہاں انہوں نے فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی تفریحی کمیٹی کی سربراہی اور اسٹیج پر مزاحیہ اداکاری کر کے فنون سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

حماس میں اپنے درجات میں اضافہ کرتے ہوئے ضیف نے گروپ کا سرنگوں کا نیٹ ورک اور اس کی بم بنانے کی مہارت تیار کی۔ وہ کئی عشروں سے اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں سرفہرست ہے جو خود کش بم دھماکوں میں درجنوں اسرائیلیوں کی ہلاکت کا ذاتی طور پر ذمہ دار ہے۔

ضیف کے لیے سائے میں رہنا زندگی یا موت کا معاملہ رہا ہے۔ حماس کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کے ایک قاتلانہ حملے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوئی اور ایک ٹانگ میں شدید چوٹیں آئیں۔

ان کی بیوی، 7 ماہ کا بیٹا اور 3 سالہ بیٹی 2014 میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

حماس کے مسلح ونگ کو چلاتے ہوئے ان کی بقا نے انہیں فلسطینی لوک ہیرو کا درجہ عطا کیا ہے۔ ویڈیوز میں وہ نقاب میں ہوتے ہیں یا ان کا صرف ایک سایہ نظر آتا ہے۔ حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ سمارٹ فون جیسی جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتے۔

"وہ مبہم ہے۔ وہ گویا ایک سایہ ہے۔”

بشکریہ العربیہ اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے