سری نگر :  مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کاکہنا ہے کہ جی 20 اجلاس سے قبل مودی سرکار نے کشمیر کو گوانتاناموبے بنا دیا ہے۔

بنگلور میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج آپ کشمیر میں نکل کر دیکھیں تو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر آپ کو ایک اوپن جیل محسوس ہوگا۔

محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ گھروں پر قبضے کر لیے گئے ہیں، یہاں تین، چار، پانچ درجوں میں سکیورٹی مقرر کی گئی ہے، گھروں میں موجود ہر چیز کو تباہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، بی جے پی کو لگتا تھا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کردینے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے، لیکن اب چین بھی مسئلہ کشمیر میں داخل ہو گیا ہے ، پہلے صرف پاکستان مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا تھا لیکن اب چین نے بھی اسے متنازعہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں آج سے جی 20 ورکنگ گروپ کا تین روزہ اجلاس شروع ہو رہا ہے ، کنٹرول لائن کے دونوں جانب مکمل ہڑتال ہے ، جگہ جگہ جی ٹوئنٹی اجلاس بائیکاٹ کے پوسٹر لگا دیے گئے ہیں۔

جی ٹوئنٹی اجلاس کے خلاف دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، احتجاج کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے، مقبوضہ وادی میں گرفتاریاں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے