کابل:ملک کی اعلیٰ تعلیم کی تاریخ میں پہلی بار متعدد سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو 7 بین الاقوامی سائنسی تحقیقی جرائد اور 26 قومی سائنسی تحقیقی جرائد شائع کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سلسلے میں اعلیٰ تعلیم کے دفتر میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ہائیر ایجوکیشن کے اعلی حکام کے علاوہ متعدد سرکاری اور نجی جامعات کے وائس چانسلروں اور پروفیسروں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر لطف اللہ خیرخواہ نے بین الاقوامی اور قومی سائنسی تحقیقی جرائد کی اشاعت کا لائسنس حاصل کرنے والی یونیورسٹیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ پیشرفت ملک کی ترقی میں ایک موثر اقدام ہے جس سے یونیورسٹیوں کا معیار بلند اور ان اداروں میں سائنسی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے اسلامی ممالک بالخصوص افغانستان میں سائنسی تحقیق کی شرح میں کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملکی یونیورسٹیوں کے ذمہ داران اور اساتذہ سے کہا کہ وہ سائنسی مضامین کی تیاری اور ان کی اشاعت کے میدان میں دستیاب امکانات اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام نے معاشی مسائل کے باوجود ملک کے تعلیمی شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے اور دستیاب وسائل کے پیش نظر تمام ممکنہ سہولیات اور وسائل فراہم کریں گے۔

بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ تحقیق، تالیف و ترجمہ کے سربراہ ڈاکٹر حمید اللہ مزمل نے شعبہ کی ایک سالہ کامیابیوں کے بارے میں معلومات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ اعلیٰ تعلیم کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک ہے جو مختلف شعبوں بالخصوص اساتذہ کے لئے تحقیقی منصوبوں، پروموشن، سائنسی تحقیقی عہدوں پر ترقی، تعلیمی اداروں میں تحقیقی مراکز کے لیے جدید آلات کی فراہمی، الیکٹرانک لائبریری، نئے ڈیٹا بیس کے انعقاد، یونیورسٹیوں کی فزیکل لائبریریوں کی تعمیر اور قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کی تیاری میں سہولت فراہم کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔

اجلاس میں کابل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد شفیع شریفی، کاردان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حاتم اور ننگرہار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر احسان اللہ ناصح نے اظہار خیال کرتے ہوئے نجی یونیورسٹیوں کو قومی اور بین الاقوامی جرائد کی اشاعت کی اجازت دینے پر ہائیر ایجوکیشن کے وزیر اور دیگر حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس اقدام سے تعلیمی اداروں کی سائنسی تحقیق کے شعبہ میں اہم پیشرفت سامنے آئے گی جو امارت اسلامیہ کی تعلیم دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے