اسرائیلی اورفلسطینی حکام اتوار کے روز مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ متحارب فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور اس ہفتے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شروع ہونے والی حساس تعطیلات سے قبل تشدد پر قابو پایا جا سکے۔

یہ ملاقات علاقائی اتحادیوں مصراور اردن کے ساتھ ساتھ امریکاکی سرپرستی میں ہورہی ہے اور یہ فریقین کے درمیان گذشتہ ایک سال سے جاری تشدد کے خاتمے کی دوسری کوشش ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 200 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے جوابی حملوں میں 40 سے زیادہ اسرائیلی مارے گئے ہیں۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں فریقین کے درمیان ملاقات میں صرف یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ اس کا اختتام کشیدگی کو کم کرنے کے وعدوں کے ساتھ ہوا تھا جبکہ اسی دن تشدد کا ایک بڑا واقعہ رونما ہوگیا تھا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی مسلح شخص نے دواسرائیلیوں کو گولی مارکرہلاک کر دیا اوراس کے جواب میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینی قصبے میں ہنگامہ آرائی کی جس کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا اور ایک فلسطینی شہید ہوگیا تھا۔

گذشتہ مصالحتی اجلاس کے بعد سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں خونریزی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے دوسری ملاقات میں توقعات کم ہوگئی ہیں۔اس کے باوجود، ثالث ممالک مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے پہلے فریقین میں کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔رمضان اس ہفتے شروع ہورہاہے اوراگلے مہینے یہود کا تیوہاریومِ فسح آرہا ہے۔

مصرکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان احمدابوزید نے کہا ہے کہ اتوارکوہونے والے اجلاس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے سیاسی اور سکیورٹی حکام کے علاوہ مصر، اردن اور امریکا کے حکام بھی شرکت کررہے ہیں۔

انھوں نے ٹویٹر پرلکھا کہ یہ مذاکرات اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے اوراس کی حمایت کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

فلسطینی عہدہ دارحسین الشیخ نے ٹویٹ کیا کہ ’’اس ملاقات کا مقصدہمارے خلاف مسلسل اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہے‘‘۔اس ملاقات کے بارے میں اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔تاہم اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ سینیرسکیورٹی حکام اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

آنے والے دن حساس ہیں کیونکہ یہوداورمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے قدیم شہرمیں داخل ہورہی ہے۔تنازع کا جذباتی مرکز ہے اور تشدد کا ایک فلیش پوائنٹ ہے۔اس پر حقِ دعویٰ کی بنیاد ہی پرکشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

توقع ہے کہ یہودکی ایک بڑی تعداد یروشلم میں واقع اہم مقدس مقام کا دورہ کرے گی، جسے مسلمان مسجدِ اقصیٰ (الحرم القدسی) اور یہود ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں لیکن فلسطینی اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سنہ 2021 میں اس مقام پر ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کا آغازگذشتہ اسرائیلی حکومت کے دور میں ہوا تھا لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحاد کی سربراہی میں اسرائیل کی نئی حکومت کے پہلے دو ماہ میں اس میں شدت آئی ہے۔یہ صہیونی ریاست کی اب تک کی انتہائی دائیں بازوپرمشتمل پہلی انتظامیہ ہے اور اس میں یہودی آباد کاری کے سخت گیر حامیوں کا غلبہ ہے۔

اسرائیلی پولیس کے نگران وزیرایتماربن غفیر ایک انتہا پسند ہیں جو ماضی میں تشدد پراکسانے اور ایک یہودی دہشت گرد گروہ کی حمایت کرنے کے جرم میں سزایافتہ ہیں لیکن اب وہ اسرائیلی سیاست کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں واقع قصبے کو ‘مٹانے’ کا مطالبہ کیا تھا اور عالمی احتجاج کے بعد انھیں یہ اشتعال انگیز بیان واپس لینا پڑا تھا۔

گذشتہ موسم بہار میں یہود کے خلاف فلسطینیوں کے حملوں کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں رات گئے چھاپامارکارروائیاں کی تھیں۔ان کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ان حملوں کو روکنا اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔ لیکن ان چھاپوں سے تشدد میں کمی نہیں آئی اور اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں 44 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘بی تسلیم’ کے مطابق سنہ 2022 میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے ہاتھوں قریباً 150 فلسطینی مارے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس اب تک 85 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ ترمزاحمت کار تھے۔ لیکن دراندازی کے خلاف احتجاج کے طورپر پتھراؤ کرنے والے نوجوان بھی مارے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتارکرکےنام نہاد انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پران کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی سے انکار کر دیا گیا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967 کی مشرق اوسط کی جنگ میں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی مستقبل میں ان علاقوں پرمشتمل اپنی آزاد ریاست کےقیام کے خواہاں ہیں جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے