شام کی وزارت ٹرانسپورٹ نے 2 جنوری صبح 9 بجے سے دمشق کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سروس کی بحالی اور پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ وزارت نے کہا ایئرپورٹ کے دیگر تباہ شدہ مقامات پر مرمت کا کام جاری ہے۔

اسرائیل نے دمشق کے جنوبی علاقے پر اتوار کو رات دیر گئے فضائی حملے کئے تھے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان حملوں سے دمشق ایئرپورٹ پر سروس معطل کردی گئی تھی۔ شام کے سرکاری میڈیا نے اس سے قبل بتایا تھا کہ دمشق میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

میزائلوں کے دھماکے

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا” نے ایک فوجی ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح 2:00 بجے اور جی ایم ٹی کے مطابق اتوار کی رات 11 بجے اسرائیلی دشمن نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور اس کے اطراف کو نشانہ بنایا اور میزائل داغے ہیں۔ اس جارحیت میں2 شامی فوجیوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حملے سے مادی نقصان بھی ہوا اور ایئرپورٹ کی سروس معطل ہوگئی۔ ’’سانا‘‘ نے بتایا کہ شام کے فضائی دفاع نے دمشق میں اسرائیلی جارحیت کا سامنا کیا اور جوابی کارروائی بھی کی۔

حزب اللہ کے ٹھکانے نشانہ

دوسری جانب ’’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘‘ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ شامی ایئر ڈیفنس نے اسرائیلی میزائلوں کو مار گرانے کی کوشش کی۔ ان میزائلوں کے گرنے سے دمشق کے اطراف میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ آبزرویٹری نے مزید کہا کہ چھاپوں میں دارالحکومت دمشق کے آس پاس اور جنوب میں لبنانی "حزب اللہ” اور ایرانی "پاسداران انقلاب” سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت دمشق اور اس کے اطراف کے الگ الگ علاقوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات کے بعد پرتشدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ نئے سال 2023 میں اور نیتن یاھو کی نئی اسرائیلی حکومت کے برسر اقتتدار آنے کے بعد شام پر اسرائیل کا پہلا حملہ تھا۔

سال 2022 میں 32 اسرائیلی حملے

سیریئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ سال 2022 کے دوران اسرائیل نے شام میں 32 حملے کئے ہیں۔ میزائل داغنے یا فضائی حملوں میں شامی زمینوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان حملوں میں عمارتوں، ہتھیاروں، گولہ بارود کے ڈپوؤں، ہیڈ کوارٹرز اور مراکز سمیت تقریبا 91 اہداف کو تباہ کیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا۔

آبزرویٹیری کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں 89 فوجی ہلاک اور 121 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں قدس فورس کے 2 ایرانی افسر، 11 شامی قومیت کی ایرانی ملیشیا اور 29 ایران سے وابستہ ملیشیا کے فوجی شامل ہیں۔

حکومت کے فضائی دفاع کے 36 افسران اور ارکان، اور لبنانی (حزب اللہ) سے وابستہ شامی اور غیر شامی 11 کارکنان بھی ہلاک ہوئے۔ زمینی کارگو ڈپارٹمنٹ میں ورکرز گروپ کے سربراہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

دمشق ایئرپورٹ پر حملے میں بچے اور 3 خواتین سمیت 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں دمشق اور اس کے دیہی علاقوں میں 18 اہداف، قنیطرہ میں 5، حماۃ میں 4 ، طرطوس میں 2، حلب میں 2 ، حمص میں 2، لاذقیہ میں ایک اور دیر الزور میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل شاذ و نادر ہی شام میں حملے کرنے کی تصدیق کرتا ہے۔ تاہم اس نے اس بات کو دہرایا کہ وہ شام میں اپنی فوجی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ اسرائیلی فوج ان حملوں کو ضروری قرار دیتی ہے تاکہ قدیم دشمن ایران کو اسرائیل کی سرحدوں پر قدم جمانے سے روکا جا سکے۔

خونی جنگ

شام 2011 سے ایک خونریز جنگ کا مشاہدہ کر رہا ہے جس میں تقریباً نصف ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور لاکھوں افراد کو ملک کے اندر اور باہر بے گھر ہونا پڑا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے