افغانستان کے موجودہ طالبان حکومت امارات اسلامی کے سرکردہ رہنما اور مشہور عالم دین شیخ رحیم اللہ حقانی کابل میں خود کش حملے میں شہید ہو گئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ایک معذور نوجوان شیخ رحیم اللہ حقانی کے مدرسے میں داخله لینے کے سلسلے میں آیا۔  اندر آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں افغانستان کے مشہور عالم دین شیخ رحیم اللہ حقانی 4 ساتھیوں سے جان بحق ہوگئے ہیں۔

شیخ رحیم اللہ حقانی امارات اسلامی افغانستان کے نظریاتی لحاظ سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے ۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد وہ وزیر دفاع ملا یعقوب سمیت ٹاپ لیڈر شپ کے نہایت قریبی دیکھے۔ یاد رہے کہ شیخ رحیم اللہ حقانی پر اکتوبر 2020 میں جب وہ مدرسہ زبیریہ پشاور دیر کالونی میں پڑھاتے تھے بھی بڑا خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 9 افراد جان سے ہاتھ دو بیٹھے تھے جبکہ 90 سے زائد طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے اور   شیخ رحیم اللہ حقانی بچ گئے تھے۔ اس قبل بھی شیخ رحیم اللہ حقانی پر تین بار قاتلانہ حملے ہوچکے تھے۔ 2013 میں بھی مخالف گروپ نے حملہ کیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔

شیخ رحیم اللہ حقانی کو کیوں نشانہ بنایا گیا

شیخ رحیم اللہ حقانی سلفیت کے سخت ترین مخالف تھے ان کے خلاف کئی فتویٰ دیئے اور ان کے ہر بیان میں داعش اور سلفیوں کے خلاف ضرور ذکر ہوتا ۔ اسی وجہ سے ان پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے ، ان کو پشاور میں رہتے ہوئے بھی سخت سیکورٹی خطرات لاحق تھے ۔ آج کابل میں ان پر ہونے والے خودکش حملے کے ذمہ داری بھی داعش خراسان گروپ نے قبول کرلی ہے ۔ جس میں وہ اپنے چار ساتھیوں سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شیخ رحیم اللہ حقانی کون تھے

افغان طالبان کے ذرائع کے مطابق شیخ رحیم اللہ حقانی افغان صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیراگم کے علاقہ پاس ثبار سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان میں طویل عرصے سے مقیم تھے، 2014یا15ء میں امریکی فورسز نے شیخ رحیم اللہ حقانی کوگرفتارکیا تھا اور انہیں بگرام جیل میں پابندسلاسل کیا تھا۔ شیخ رحیم اللہ حقانی افغان طالبان کے مشرقی صوبوں کےلئے قائم ملٹری کمیشن کے ممبر تھے اور انہیں خصوصی طور پر پاکستان سے متصل ننگرہارصوبے کےلئے ملٹری کمیشن کا سربراہ مقررکیا گیا تھا۔ شیخ رحیم اللہ حقانی کئی سال تک افغان جیل بگرام میں مقیدرہے، وہ داعش اورسلفی مکتبہ فکرکےخلاف سخت موقف اپناتے تھے اوران کے خلاف مدلل جوابات دیتے تھے۔ شیخ رحیم اللہ حقانی جوعلم حدیث کے ماہرسمجھے جاتے تھے، کا اثرورسوخ نہ صرف جامع زبیریہ تک محدودتھا، بلکہ خیبرپختونخواکے کئی دیگر ہم خیال مدارس میں بھی احادیث سننے جاتے تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے