پچھلے کچھ ہفتے افغانستان کے لئے اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اتنے قلیل عرصے میں اتنی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو پہلے سال میں بھی رونما نہیں ہوتی تھیں، ملک کے مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک مختلف صوبوں کے درجنوں اضلاع امارت اسلامیہ کے کنٹرول میں آئے۔ کابل انتظامیہ کے ہزاروں فوجی امارت اسلامیہ کی صف میں شامل ہوگئے اور اپنے فوجی اڈے اور تمام فوجی سازوسامان مجاہدین کے حوالے کردیئے۔
لیکن یہ فتوحات اور تبدیلی جتنی وسیع و عریض ، گہری اور اہم ہیں، بین الاقوامی اور ملکی میڈیا نے اس کے مطابق کوریج نہیں دی اور نہ ہی خبروں اور تجزیاتی رپورٹوں میں مناسب طور پر اشاعت کی گئی ہے، شاید کابل انتظامیہ کے حکام کی طرح اب بھی کچھ ذرائع ابلاغ حقائق کو نظر انداز کرنے اور ان سے انکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر ماضی میں کابل انتظامیہ کے حکام اور متعصبانہ میڈیا امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی کچھ پیشرفت کو نظر انداز اور ان سے انکار کر دیتے تو یہ کسی حد تک ممکن ہوتا لیکن اب امارت اسلامیہ کی کامیابیاں اور فتوحات اتنی زیادہ، وسیع اور اہم ہیں کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہر روز اضلاع کی فتح اور سیکڑوں فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں اور دستاویزی رپورٹس شائع ہوتی ہیں۔ عوامی سطح پر ہر جگہ یہ فتوحات موضوع بحث ہوتی ہیں لیکن متعصبانہ میڈیا ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔
اگر میڈیا یہ سوچتا ہے کہ وہ حقائق کے سورج کو چھپائے گا اور عوام کو حقائق سے بے خبر رکھے گا، تو یہ خام خیالی ہے، حقائق کو مسخ کرنے کا وقت گزر گیا ہے کیونکہ اس بار تبدیلی اور جہادی انقلاب کا حجم اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ اسے مسخ کرنا میڈیا کی طاقت سے باہر ہے۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا کو حقائق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، کب تک وہ حقائق کے سیلاب کے سامنے ریت کی دیوار بن کر کھڑا رہے گا، میڈیا کو چاہئے کہ وہ موجودہ صورتحال کو تسلیم کرے، امارت اسلامیہ کے غلبے اور اس کی فتوحات کو تسلیم کرنا چاہئے اور لوگوں کو صورتحال سے متعلق حقائق پر مبنی خبریں اور تجزیاتی رپورٹس پیش کرے، میڈیا اپنی موجودہ معنی خیز خاموشی پر مبنی پالیسی کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا کیوں کہ آخر کار لوگ اس سے اس صورتحال کے بارے میں معلومات پوچھتے رہیں گے۔
امارت اسلامیہ حقائق پر مبنی معلومات کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس لئے اس نے ہمیشہ میڈیا کے ساتھ اپنا تعاون برقرار رکھا ہے، ہمیشہ وقوع پذیر واقعات اور پیشرفت کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کیا ہے تاکہ عوام موجودہ صورتحال سے واقف ہوں۔ اسی طرح میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کے پیش نظر صورتحال کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کرے، حالیہ فتوحات سے عوام کو آگاہ کرے، حقائق پر مبنی واقعات کو بیان کرے اور حقیقی واقعات اور پیشرفتوں کے بارے میں خاموش نہیں رہنا چاہئے کیونکہ خاموشی سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا اثر ختم کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے