اسلام آباد: پاکستان میں تیار ویکسین "پاک ویک” کو لانچ کر دیا گیا ہے، ویکسین چین سے درآمد سائنو ویک کے خام مال سے تیار کی گئی ہے۔

وزارت قومی صحت کورونا وائرس کی حفاظتی ویکسین پاک ویک کو 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو لگانے کیلئے لانچ کی گئی ہے۔ پاک ویک ویکسین قومی ادارہ صحت میں تیار کی گئی ہے جس کا خام مال اور تیکنکی صلاحیت چین نے فراہم کی ہے۔

وزارت قومی صحت نے ابتدائی طورپر قومی ادارہ صحت کو پاک ویک کی تیس لاکھ ڈوز تیار کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ پاک ویک کی مینوفیکچرنگ ، پیکنگ اور میٹریل قومی ادارہ صحت میں تیار کیا گیا ہے۔

پاک ویک لانچنگ تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہر مشکل میں سے آسانی نکلتی یے۔ اس موجودہ مشکل میں سے آسانیوں کے راستے بڑے واضع نظر آ رہے ہیں۔ اس موجودہ چیلنج میں ہمارا دوست چین پاس ہی نظر آیا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ خام مال سے ویکسین بننا اتنا سادہ مرحلہ نہیں ہے۔ کوالٹی ایشورنس اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی باریک بینی سے کوشش کرنی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکیسن کی پیداوار کا عمل بتدریج آگے بڑھتا ہے۔ یہ ایک اہم قدم ہے جس کے بعد ویکیسن کی مکمل پیداوار چند سال تک پاکستان میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب این آئی ایچ کی اگلی چھلانگ لگانے کا وقت آ گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت 7 بڑے اہم ادارے این آئی ایچ میں بنائے جائیں گے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ این آئی ایچ کی کارکردگی پر قوم کو فخر ہے۔ قوموں کی ترقی میں پڑھے لکھے افراد کا کردار بہت اہم ہے۔ وفاق تمام صوبوں کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 60 ارب روپے خرچ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کے حالات دوسرے ممالک سے کافی بہتر ہے۔ این سی او سی نے صوبوں کے ساتھ مل کر بہت اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں بھارت کو آ کسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ کورونا کی شدید صورتحال میں ہنگامی بنیادوں پر 2 ہزار بیڈز کا انتظام کیا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کوئی بیماری فیملی اور مذہب کو نہیں دیکھتی ، مسائل کے حل کیلئے فوری فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا، اللہ کا کرم رہا دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں صورتحال بہتر رہی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں علم میں اضافہ ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے