اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امارات کے ساتھ معاہدے پر ہم سب بہت خوش ہیں۔ اس پیش رفت سےمشرق وسطی میں سیاحت اور تجارت کے راستے کھل گئے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کا دائرہ بھی مزید وسیع ہوگا۔

 امریکی صدر کے مشیر اور داماد جیریڈ کشنر اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر  رابرٹ او برائن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کےدوران نیتن یاھو نے کہا کہ اگرفلسطینیوں تک ہوتا تو وہ اسرائیلیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیتے۔ 1967 کی سرحدوں پر واپسی کا مطلب یہودی ریاست کو تسلیم کیے بغیر اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ فلسطینی تو  اعلان بالفور  پر برطانیہ پر مقدمہ کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔ دو چیزیں ہیں جنہوں‌نے ہمیں سنہ 1967ء کی سرحدوں پرواپسی  سے روکا۔ ایک امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا منصوبہ ہے  اور دوسرا امریکا کی کوششوں سے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا قیام ہے۔ اس نے ہمیں اور اسرائیل کو خطرے سے بچا لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن کو آگے بڑھانے کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ سب سے  بہتر فارمولہ ہے۔ اسرائیل کے ساتھ جتنے عرب ممالک شامل ہوں‌گے اتنا زیادہ بہتر ہوگا۔

نیتن یاھو نے کہا  کہ امریکا جیسے ہمارے دوستوں کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں تھا۔ کشنر  آپ نے کہا تھا کہ دوسرے ممالک ہمارے ساتھ صلح کریں گے۔ انہوں نے کبھی کبھی آپ کی ملامت کی ، لیکن مجھے خوشی ہے کہ یہ تنقیدیں غلط تھیں۔ یہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک بھی مخالفت کرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ حقیقت بدل گئی ہے۔ کشنر نے وعدہ کیا  کہ ہم امن کو تباہ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا جشن مناتے ہیں۔
اس موقعے پر اوبرائن نے کہا کہ متحدہ عرب امارات 1994 سے اسرائیل کو تسلیم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسرائیل اور امارات کے پیسوں سے  مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گی۔ جو مسلمان القدس میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ یہاں آسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے