اسلام آباد: قومی ایئر لائنز (پی آئی اے) میں پائلٹس کے جعلی لائسنس اور ڈگریوں کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

یاد رہے کہ 25 جون کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پائلٹس کے جعلی لائسنسز کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن سے 2 ہفتے میں جواب طلب کیا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اےکے 450 پائلٹس ہیں۔ پی آئی اے سمیت نجی ایئر لائنز کے 1934 پائلٹس کولائسنس جاری کیے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 16 مشتبہ ڈگری والے پائلٹس میں سے 8 کومعطل کیاگیا۔ انکوائری بورڈنے 262 پائلٹس کےمشتبہ لائسنس کی نشاندہی کی۔ جعلی لائسنس والے پائلٹس نےامتحان میں حصہ نہیں لیاتھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق 54 پائلٹس کےلائسنس معطل کر کے دوبارہ تصدیق کی جارہی ہے۔ پی آئی اے 141، سیرین 10 اور ایئر بلیو کے 9 پائلٹس گراؤنڈ کیے۔

رپورٹ کے مطابق ایئرلائنز کے علاوہ 102 دیگر پائلٹس گراؤنڈ کیے گئے، وفاق کو 54 میں سے 28 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے کی سمری ارسال کی گئی، 208 مشتبہ لائسنس والے پائلٹس میں سے 34 کومعطلی کےاحکامات جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ عدالت میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی سربراہی میں پائلٹس کے جعلی لائسنسز کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے پائلٹس کو جعلی لائسنس کیسے اور کیوں جاری ہوئے؟ ۔

عدالت نے استفسار کیا تھا کہ جعلی لائسنس دینے والوں کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟ مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنا سنگین جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اے، ایئربلو، سیرین کے سربراہان کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ ائیرلائنزسربراہان پائلٹس کی ڈگریوں اور لائسنس کی تصدیق پر مبنی رپورٹس فراہم کریں۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد 262 مشکوک لائسنس یافتہ پائلٹس کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ 22 گریڈ کے افسر کی نگرانی میں پائلٹوں کی مبینہ جعلی اسناد سے متعلق انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور اب اس حوالے سے باقاٰعدہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

وزیرہوابازی نے کہا تھا کہ ملک بھر میں 860 پائلٹس ہیں جن میں پی آئی اے، آئیر بلیو، سیرین ائیر اور دوسری ائیر لائنز کے پائلٹ شامل ہیں۔ دوران انکوائری یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ پائلٹس نے چھٹی والے دن پیپرز دیے اور جعلی اسناد حاصل کیں۔ 860 میں سے 262 پائلٹس کی اسناد مشکوک ہیں۔

غلام سرور کا کہنا تھا کہ 2006 سے مختلف محکموں میں جعلی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع ہوا۔ پی آئی اے میں کئی افراد کی جعلی ڈگریاں نکلیں۔ فروری2019میں پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق شروع کروائی۔ تمام پائلٹس کی تصدیق کرنا مشکل مرحلہ تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے جعلی ڈگریوں پر ایکشن لیا اس وقت 650پائلٹ تھے۔ کچھ پائلٹس کو طلب کیا گیا اور چند نے اعتراف بھی کیا۔ افسوس کی بات ہے اداروں میں بے ضابطگیاں اور کرپشن ہوئی۔ چار پائلٹس کی بھی ڈگری جعلی تھی۔ 860 میں سے 262 پائلٹس کے لائسنس اور ٹیسٹ کی تاریخ مشکوک ہیں۔

غلام سرور نے کہا تھا کہ جن لوگوں کی ڈگریاں جعلی تھیں انہوں نے ہفتے اور اتوار کو بھی پیپر دیے۔ ان 262 میں پی آئی اے ایئربلیو اور غیر ملکی ایئرلائین کیلئےکام کرنے والے شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے