تحریر: میوند سادات

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین جارحیت کے خاتمے کے معاہدے کے بعد ملک کی آزادی اور امن سے متعلق جو توقعات وابستہ تھیں، معاہدے پر فریقین کے دستخط کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور معاہدے کی حمایت میں ملک کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے جلسے ہوئے۔ لیکن افسوس کہ امریکہ نے خود اور کابل انتظامیہ کے ذریعہ اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے اور اب بھی فوجی اور سیاسی شعبوں میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔

مثال کے طور پر: امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین ہونے والے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور کابل انتظامیہ میدان جنگ کے علاوہ کسی اور علاقے پر حملہ نہیں کریں گے تاہم معاہدے کے چند دن بعد امریکہ نے صوبہ ہلمند کے ضلع نہر سراج میں مجاہدین پر اس وقت حملہ کیا جب جنگ ختم ہونے کے بعد مجاہدین واپس جارہے تھے ۔

اس واقعے کے بعد امریکہ اور کابل انتظامیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں مجاہدین اور عام شہریوں پر متعدد حملے شروع کیے جس سے عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ قندوز کے ضلع دشت ارچی اور امام صاحب، بغلان ، فاریاب ، ہلمند ، زابل ، روزگان ، بدخشان ، بلخ ، قندہار ، غزنی ، کاپیسا ، پکتیکا اور دیگر صوبوں میں حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی بمباریوں، ڈرون اور راکٹ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوگئے، ان کے مکانات تباہ اور ان کی املاک تباہ ہوگئی ۔

معاہدے کی خلاف ورزی کے سلسلے میں کابل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے میں بلا جواز تاخیر بھی ایک زندہ ہے۔ جس طرح معاہدے میں وعدہ کیا گیا تھا کہ دس مارچ سے قبل امارت اسلامیہ کے پانچ ہزار اور کابل انتظامیہ کے ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے ۔

قدیویں کی رہائی کا عمل اگر ایک طرف سے خالصتا ایک انسانی مسئلہ ہے تو دوسری جانب یہ عمل بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے لئے کلید ہے،  کیوں کہ معاہدے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ دس مارچ سے قبل قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے، لہذا اب قیدیوں کا تبادلہ جتنی تاخیر سے شروع ہوگا بین الافغان مذاکرات بھی اتنے تاخیر سے شروع ہوں گے ۔

قیدیوں کے تبادلے کی راہ میں حائل رکاوٹیں چاہے امریکہ کی مرضی سے ہوں یا نہیں تاہم ان رکاوٹوں سے بین الافغان مذاکرات کی تاخیر کی وجہ ہوسکتی ہیں اور ان مذاکرات میں تاخیر کی وجہ سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے امن عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، لہذا جو لوگ قیدیوں کی رہائی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور امن کوششوں کو سپوتاژ کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں، وہ جنگ کی آگ پر تیل چھڑکنے کے ذمہ دار ہیں ۔

امارت اسلامیہ نے امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق اپنا کام انجام دیا ہے۔ اس نے معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ یہاں تک کہ مخالف فریق نے بھی اس بات پر اعتراف کیا ہے کہ امارت اسلامیہ نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور وہ اپنے وعدے پر قائم ہے، لہذا امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے اور کسی کو بھی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہ دے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے