آج کی بات

چند سال پہلے کچھ بین الاقوامی طاقتوں نے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے عراق ، شام ، افغانستان اور چند دیگر ممالک میں داعش کے عنوان کے تحت ایک فتنہ برپا کیا اور اس کو پروان چڑھایا ۔

اس گروہ نے اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کی پردہ پوشی کے لئے "خلافت اسلامیہ” کا مقدس نام استعمال کیا تاکہ وہ مسلمانوں کے اسلامی اصولوں ، حدود اور قوانین کو ہمیشہ کے لئے بدنام کرے، اس قاتل گروہ کو تشکیل دینے کا سب سے اہم مقصد بھی یہی تھا ۔

امارت اسلامیہ جو اسلام کے مقدس دین پر عمل درآمد کے لئے پوری طرح پرعزم ہے، نے نہایت بصیرت اور تدبیر کے ساتھ ملک اور خطے کو اس شرآنگیز گروہ کی سرگرمیوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کیا اور افغانستان کو ایک اور خونی جنگ سے بچایا ۔

امارت اسلامیہ نے اس گروپ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کا فیصلہ تب کیا جب اس گروپ نے بازاروں ، مساجد اور عوامی اجتماعات پر وحشیانہ حملے کیے، خواتین اور بچوں کو یرغمال بنایا اور قبائلی عمائدین اور معتبرین کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا ۔

امارت اسلامیہ کے خصوصی دستوں نے زابل ، جوزجان اور ننگرہار کے بعد اب صوبہ کنڑ میں داعش کو شکست دیکر اس کا قلع قمع کیا اور پورے ملک سے اس کا صفایا کر دیا، ننگرہار میں اس گروہ کی شکست کے بعد کچھ مسلح افراد نے کنڑ کے سنگلاخ پہاڑوں میں پناہ لیکر وہاں چھپ گئے، ان کا منصوبہ تھا کہ اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جائے تاہم امارت اسلامیہ نے پہل کر کے داعش کی آخری آواز کو بھی خاموش کر دیا ۔

اس اقدام سے امارت اسلامیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لئے پُرعزم ہے اور کسی کو بھی اس مجاہد قوم کو مشکل میں ڈالنے اور جنگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے