تحریر: سیف العادل احرار

 فروری 29 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان جارحیت کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت اگلے 14 ماہ میں تمام قابض افواج افغانستان سے انخلا کریں گی اور ایک اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی ۔

یہ معاہدہ جو حقیقت میں فتح مبین کا آغاز ہے جس نے افغان مجاہد قوم کے ساتھ ساتھ پوری امت مسلمہ میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا، لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس معاہدے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں اور مایوس ہیں، کچھ لوگ تو سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ناواقف ہیں اور جہالت کی بنیاد پر غیر ضروری اعتراضات اٹھا رہے ہیں اور کچھ لوگ زہنی بیمار اور سیکولر نظریے کےعلمبردار ہیں جو تعصب کی بنیاد پر غیر معقول اعتراضات کرتے ہیں اور اظطراب پیدا کر رہے ہیں ۔

جو لوگ لاعلمی کی وجہ سے اعتراضات کرتے ہیں ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ صلح حدیبیہ کے وقت بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس معاہدے سے ناخوش تھے اور بار بار سوال کر رہے تھے لیکن اللہ تعالی نے اس کو فتح مبین قرار دیا، اس معاہدے کی شرائط اور دوحہ معاہدے کی شرائط میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں کے چیدہ چیدہ نکات اور ان میں مماثلت غور سے پڑھیں ۔

نمبر 1 ۔ اس معاہدے میں جہاں بھی امارت اسلامیہ لکھا ہوا ہے اس کے ساتھ بریکٹ میں لکھا ہے کہ )جس کو امریکہ ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے( اکثر لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں امارت کو تسلیم نہیں کیا گیا ؟ ‘امارت’ کا لفظ ایک ایسا لفظ ہے جسے اسلام کے دشمن برداشت نہیں کرسکتے تھے اور مذاکرات کی طوالت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اور طالبان نے اس پر طویل بحث کی اور ہر ایک نے دلائل دیئے، تاہم امارت کی قیادت اس میں کامیاب ہو گئی کہ معاہدے میں طالبان کے لئے امارت اسلامیہ کا نام ہی استعمال کیا گیا ہے اور بریکٹ میں اس کی وضاحت کی اتنی اہمیت نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا جب معاہدے کے شروع میں "بسم اللہ الرحمن الرحمن” لکھا گیا تو مشرکین کی جاب سے مذاکراتی وفد کے سربراہ سہیل نے اعتراض کیا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے ، اس لیے عرب کے دستور کے مطابق ”باسمک اللھم“ لکھو، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مان لیا ، جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ لکھوایا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول الله اور سہیل بن عمرو کے مابین طے پایا، تو سہیل نے لفظ”رسول الله“ پر اعتراض کیا کہ اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو جھگڑا کس چیز پر ؟ لہذا آپ معاہدے میں محمد بن عبداللہ لکھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لفظ ہٹا دیں، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کاٹ دیا کیوں کہ اس میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں تھا ۔

نمبر 2 ۔ اس معاہدے میں امارت اسلامیہ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ القاعدہ کے ارکان کو افغانستان میں کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے گی ، القاعدہ اور دیگر جہادی گروپوں کے رہنماوں کو سیاسی پناہ ، ویزا ، پاسپورٹ اور قانونی دستاویزات نہیں دے گی ۔

بلکل اسی طرح صلح حدیبیہ میں طے ہوا بلکہ اس سے بھی سخت معاہدہ طے ہوا کہ (قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کریں گے لیکن محمد صلی الله علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے جو شخص  قریش کے پاس آئے گا قریش اسے واپس نہ کریں گے) ۔

نمبر 3 ۔ افغانستان میں القاعدہ کو سرگرمیوں کی اجازت نہ دینا بھی معاہدے میں شامل ہے، لیکن صلح حدیبیہ کے وقت سہیل بن عمرو کے بیٹے ابو جندل، جو مسلمان ہو چکے تھے اورباپ نے ان کو قید کر رکھا تھا ،وہ بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے کہ مجھے مشرکین کی قید سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے چلو لیکن جب سہیل نے اسے واپس کیے بغیر صلح سے انکار کر دیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ابو جندل کو یہ تسلی دے کر واپس کر دیا کہ آپ تھوڑا اور صبر کریں، الله آپ کے لیے خلاصی کی راہ نکال لے گا ۔

اسی دوران قریش کے پرجوش اور جنگ باز ستر اسی کے قریب نوجوانوں نے صلح کی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلمانوں میں گھس کر ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کے جاں بازوں نے انہیں گرفتار کر لیا مگر آپ صلی الله علیہ وسلم نے صلح کی خاطر انہیں معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ اب بھی کابل انتظامیہ کے سربراہ اور ان کے قریبی لوگ جارحیت کے خاتمے کا معاہدہ سپوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے یہ حربے ناکام ہوں گے اور مجاہدین اپنے عہد و پیمان پر قائم ہیں ۔

یہاں بھی لوگوں کو یہ شبہ ہے کہ اگر طالبان کا جہاد جائز ہے تو القاعدہ کے ساتھ کیوں تعلق ختم کیا گیا ہے؟ یہ شرط کیوں قبول کی گئی؟ اگر معاہدہ کرنا تھا تو پھر 18 برس تک جہاد کیوں کیا؟ امریکہ تو ہمارا دشمن ہے اس کے ساتھ کیوں معاہدہ کیا؟ ہم مسلمان ہیں اور حق پر ہیں ہم کیوں کسی کافر کے ساتھ کڑی شرائط پر معاہدہ کریں وغیرہ وغیرہ ۔ اس وقت بھی ایسی باتیں ہورہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم مکہ جاکر بیت اللہ کا طواف کریں گے تو اب انہوں نے کیوں طواف کرنے سے گریز کیا؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ سلم حق پر ہیں اور اللہ ہمارے ساتھ ہے لہذا انہوں نے قریش کے دباؤ پر کیوں معاہدہ کیا اور معاہدے میں انہیں مراعات کیوں دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! یہ سچ نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور وہ غلط ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہاں کہتے،۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ : کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے مردہ جنت جائیں گے اور ان کے دوزخ؟ اللہ کے رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں ۔

صلح کے بعد تین دن تک آپ صلی الله علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قیام فرمایا، پھر روانہ ہوئے تو راستے میں یہ سورت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً﴾ "ہم نے تجھ کو کھلی ہوئی فتح عطا کی” تمام مسلمان جس چیز کو شکست سمجھ رہے تھے خدا نے اس کو فتح مبین کہا۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ: کیا یہ فتح ہے؟ ارشاد ہوا کہ: ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تسکین ہو گئی اور مطمئن ہو گئے ۔

تو میرے دوستوں آج ہمارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور ان ہی ان کی وحی ہے بلکہ ہم قرآن اور سنت کے مطابق اسوہ حسنہ پر عمل کریں گے تو نجات پائیں گے اور ہمیں کامیابی ملے گی، امارت اسلامیہ کی قیادت علماء کرام کر رہے ہیں اور ہم ان کی ہدایات کے مطابق جہاد کا مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔

کفار کے ساتھ صلح سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے کہ ( وان جنحوا للسلم فاجنح لها وتوکل علی الله) اور اگر وہ صلح کے لئے مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاو، اور اللہ پر بھروسہ کرو ۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقصد کے لئے مرتب کیا گیا ہے اور ہم تک پہنچانے میں علماء کرام نے بڑی محنت کی ہے تاکہ ہر معاملے کو حل کرنے کے لئے ہم اس سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی روزمرہ کی سیاست میں سیکھنے ، ان پر عمل کرنے اور استعمال کرنے کے لئے اس پر عمل کریں ۔

اللہ تعالٰی حدیبہ کی طرح فتح کے اسباب اور امکانات بھی مہیا کرے گا اور نہ صرف افغان اسلامی حکومت کی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے دفاع اور حفاظت کا اہتمام کیا جائے گا ۔

لیکن سب سے پہلے عالمی جغرافیہ میں اپنا مقام حاصل کرنا اور ملک آزاد کرنا ضروری ہے، ہمیں اپنے قائدین کے طرز عمل پر یقین رکھنا چاہئے، ان کی قیادت اور بصیرت پر غیر متزلزل اعتماد کرنا چاہیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے