السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..۔
اللہ تعالی ھمیں..ھمارے نفس کے سپرد نہ فرمائیں..یعنی ھمیں ھماری مرضی کے حوالے نہ فرمائیں..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کسقدر تاکید سے..جنت کی تمام عورتوں کی سردار..حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا سے فرما رھے ھیں..ما یمنعک ان تسمعی ما اوصیک بہ..عربی جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ..یہ الفاظ کتنی تاکید والے ھیں..اور انمیں محبت و شفقت سے بھری کیسی پیاری ڈانٹ بھی ہے..ان الفاظ سے تاکید فرما کر دعاء سکھائی کہ..صبح وشام ضرور مانگا کریں..يا حی يا قيوم برحمتك استغيث اصلح لی شأنی كله ولا تكلنی الى نفسی طرفۃ عين..(النسائی فی السنن قال المنذری اسنادہ صحیح) اے زندہ، اے تھامنے والے آپ کی رحمت سے فریاد ہے کہ میری ہر حالت سنوار دیجئے اور مجھے ایک لمحہ بھی میری مرضی کے سپرد نہ کیجئے..اللہ تعالی کی مرضی میں زندگی ہے، تھامنا ہے، روشنی ہے، فلاح ہے..جبکہ اپنے نفس کی مرضی میں حرص ہے، ھلاکت ہے، اندھیرا ہے اور ذلت ہے..ایک اللہ والی خاتون کا قول ہے کہ..یہ دعاء میرے نزدیک محبوب ترین دعاء ہے..اور مجھے اس دعاء سے بے حد فائدہ پہنچا ہے..اور میں جسقدر یہ دعاء زیادہ مانگتی ھوں اسیقدر مجھ پر اور میری اولاد پر اللہ تعالی کی نعمتیں زیادہ برسنے لگتی ھیں..مکتوب میں جگہ کم ھوتی ہے اس لئے دعاء کی مکمل تشریح نہیں آسکتی..خود غور فرمائیں کہ..کس نے کس کو سکھائی ہے؟..میری جان میرے اللہ کی مرضی..میرا جسم میرے اللہ کی مرضی..یا حی یا قیوم..۔
والسلام
خادم..۔
لااله الاالله محمد رسول الله

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے