امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہونے میں محض چند گھنٹے باقی ہیں۔ ایسے میں افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ سے معاہدے کے بعد وہ چاہتے ہیں پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔

یہ بات قطر کے دارلحکومت دوحہ میں طالبان رہنما ملا عبدالسلام ضعیف نے امریکی خبر رساں ایجنسی سے خصوصی گفتگو میں کہی۔

ملا عبدالسلام ضعیف طالبان کے دورِ حکومت میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر کے طور پر تعینات تھے، لیکن افغانستان میں امریکی حملے کے بعد انھیں اسلام آباد سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

ملا ضعیف نے کہا کہ حالات بدل رہے ہیں اور دنیا کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ لڑائی کی بجائے بات چیت سے افغانستان کے مسئلے کو حل کیا جائے۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پر امن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو رہے ہیں اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا دور شروع ہو گا۔

امن معاہدے میں پاکستان کا کردار

طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کے بارے میں طالبان رہنما ملا ضعیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار یہ ہے کہ اس نے امن معاہدے کے لیے بات چیت کی حمایت کی۔

ملا ضعیف کے بقول ’’ماحول بدل گیا ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کی سوچ بھی بدلی ہے اور خطے کے تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ لڑائی کا فائدہ نہیں ہے۔ فائدہ اسی میں ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کی جائے۔ انھیں سمجھا جائے اور بات چیت کی جائے جس کا فائدہ سبھی کو ہو گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے جن کی وجہ سے اس امن معاہدے کے لیے پاکستان مرکزی کردار ادا نہیں کر پایا، لیکن پاکستان نے امن کے معاہدے کے لیے رکاوٹیں بھی کھڑی نہیں کیں۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لڑائی پاکستان سمیت خطے کے کسی ملک کے مفاد میں نہیں، کیونکہ اگر افغانستان میں امن آتا ہے تو اس کا پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان میں امریکی حملے کے بعد پاکستان پر دباؤ تھا کہ وہ افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے اور اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر سمیت کئی طالبان کو پاکستان نے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا۔ لیکن اُن کے بقول، طالبان نے حملوں اور دباؤ کے باوجود بھی ہتھیار نہیں ڈالے اور حالات کا مقابلہ کیا۔

ملا ضعیف کے مطابق، اب حالات بدل گئے ہیں اور امریکہ سمیت عالمی دنیا 18 سال سے جاری اس لڑائی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

امن کے لیے طالبان کی علاقائی ممالک سے توقعات

ملا عبدالسلام ضعیف نے بتایا کہ خطے کے ملک بھی اب افغانستان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک کے مفاد ہے۔ انھیں توقع ہے کہ افغانستان کے معاملات میں غیر جانبدار رہیں گے اور امن معاہدے کے بعد افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام بھی طویل جنگ سے تھک چکے ہیں اور طالبان چاہتے ہیں کہ اسلامی قوانین کے تحت ایسا نظام لایا جائے جہاں سب کے برابری کے تحت حقوق ہوں اور کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو۔

ملا ضعیف کے مطابق، پر امن افغانستان کا مستقبل بھی اس صورت میں ممکن ہے کہ جب انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

امریکہ افغان طالبان معاہدے

افعانستان میں تشدد میں کمی کے سات روزہ عبوری معاہدے کے بعد افغان طالبان اور امریکہ کے 29 فروری کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلائے گا اور طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

امن معاہدے کے فوری بعد بین الافغان مذاکرات کا دور شروع ہو گا۔

دوحہ میں اس وقت دنیا بھر کے صحافی موجود ہیں اور امن معاہدے پر دستخط کی تقریب دوحہ کے ایک ہوٹل میں ہوگی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو، طالبان کی قیادت اور افغانستان حکومت کا وفد شرکت کر رہا ہے، جب کہ پاکستان سمیت علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اس تقرہب میں شریک ہوں گے۔

ملا عبدالسلام ضعیف کون ہیں؟

افغانستان میں طالبان کی دورِ حکومت میں ملا عبدالسلام ضعیف پاکستان میں افغانستان کے سفیر کی حیثیت سے تعینات تھے۔

سن 2001 میں افغانستان میں امریکی حملے کے بعد انھیں اسلام آباد سے حراست میں لیا گیا اور سن 2005 تک وہ گوانتاناموبے جیل میں قید تھے۔ اُن کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ابتدائی ادوار کے دوران اقوام متحدہ نے اُن کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے