جن کی مذہبی بنیاد ہی صدیوں سے لاشوں اور ماتموں پر اُستوار ہے، انہیں نئی فتنہ انگیزی کے لئے ایک کافی وزنی لاش فراہم کر دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ پر عموماً اور عرب پر خصوصاً رحم فرمائے۔ امریکہ کے ہاتھوں مارے جانے والے شخص کے جنازے پر لہو گرمانے کے لئے جو نشید اور رجز پڑھے جا رہے تھے اور لاکھوں کا مجمع کو رس میں انہیں دہرا رہا تھا، ان میں امریکہ اور مغرب کے خلاف نہ کوئی جملہ تھا اور نہ کسی عزم کا اظہار ۔سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا تھا کہ عربستان پر سرخ حیدری پرچم لہرایا جائے گا اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پاش پاش کر دیا جائے گا۔

کیا اَمریکہ اور ایران آپس میں دشمن ہیں؟

اگر کسی کا جواب ہاں میں ہے تو اسے بچراگاہ باید فرستاد

امریکہ کی جن سے دشمنی تھی ان کے ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں ایک بے بنیاد جھوٹی رپورٹ لکھوا کر اس نے فوج کشی کر دی اور پورا ملک تباہ کر دیا۔ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی فوج کشی کی اور لاکھوں عساکر اور تمام تر جنگی قوت ان کے خلاف جنگ میں جھونک دی۔ حالانکہ نہ تو آج تک امریکا وہاں ایسے ہتھیاروں کی موجودگی ثابت کر سکا اور نہ ان کا کوئی ایسا اعترافی بیان پیش کر سکا جو جنگ کی بنیاد بن سکتا۔ جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے دنیا کا ہر کہہ و مہہ واقف ہے۔ امریکہ کے نزدیک اسرائیل کا ہر دشمن اس کا ذاتی دشمن ہے، وہ نہ ایسے عناصر کا وجود برداشت کرتا ہے اور نہ انہیں دنیا میں کہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ایران اور حزب اللہ جیسے اس کے پالتو عناصر نہ صرف آزاد اور محفوظ ہیں بلکہ کھلم کھلا اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نہ ان کے ٹھکانوں پر امریکی ڈرون آتے ہیں اور نہ ان کے اڈوں پر میزائل برستے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ایک ایسی تنظیم جسے عالمی سطح پر کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور اس پر پابندیاں عائد ہیں۔ اس کا سربراہ باقاعدگی سے ٹی وی پر آتا ہے۔ لاکھوں کی ریلیوں سے خطاب کرتا ہے۔ وہ تنظیم ایک پورے ملک کی سیاست میں نصف کی شریک ہے اور اپنی مرضی سے اقتدار بناتی اور گراتی ہے۔ اس کے باوردی سپاہی سڑکوں پر فوجی پریڈ کرتے ہیں وہ ایک جنگی ریاست کی طرح اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اور ایک ملک ہے جو اس تنظیم کو پورے طور پر اون کرتا ہے اور اسے ہر طرح کی اعلانیہ مدد اور حمایت فراہم کرتا ہے لیکن امریکہ اور اسکی وہ تمام اتحادی عالمی قوتیں جو اس تنظیم کو کالعدم قرار دے چکی ہیں نہ اس ملک کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کرتے ہیں اور نہ اس تنظیم کے خلاف۔ کیا ایسے استثناء کی دنیا میں کوئی اور مثال ہے یا یہ صرف ایران کو اور اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کو ہی حاصل ہے؟

عراق میں امریکا نے صدام حسین شہید کی حکومت گرائی اور وہاں کا اقتدار اپنی مکمل سرپرستی میں ایران کے سپرد کیا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ایران نے امریکی قبضے کے دوران وہاں منظم مسلح ملیشیا گروہ قائم کئے۔ عراق کی پارلیمان کسی بھی ایرانی صوبائی پارلیمان سے زیادہ ایران کے زیر اثر ہے۔ ایرانی افواج ، افراد اور ملیشیا کو عراق آمدورفت کی بلا روک ٹوک اجازت ہے۔ کیا کوئی ملک اپنے مفتوحہ علاقے میں اپنے دشمن کو اس طرح رسوخ اور اثر اندازی کی اجازت دیتا ہے یا دے سکتا ہے؟

ایران کا ایٹمی پروگرام کچھ عرصہ پہلے تک اس دشمن ڈرامے کا ایک اہم حصہ رہا ہے لیکن امریکا میں اوبامہ انتظامیہ کے جانے کے بعد ٹرمپ نے آ کر اس پروگرام میں ایران کو ڈھیل دے کر اس ڈرامے کو دنیا کے سامنے طشت ازبام کر دیا ۔ ایک ایسا ملک جو امریکا اور اسرائیل کو اپنا مرکزی دشمن قرار دیتا ہو اور دنیا بھر میں اس کی منافقانہ سیاست کا محور یہی جھوٹا نعرہ ہو امریکہ بقلم خود اسے کس طرح یہ اجازت لکھ کر دے سکتا ہے کہ وہ اپنا پروگرام جاری رکھے؟ جبکہ ایران کے معاملے میں یہ الٹی گنگا بھی بڑی خوش اسلوبی سے بہائی گئی؟

کیا امریکا اور ایران کی جنگ ہو گی ؟

ایران نے مشرق وسطیٰ کے ہر ملک میں اپنے عسکری وِنگ قائم کر رکھے ہیں۔ شام عراق اور یمن میں اس کی حمایت یافتہ ملیشیاز باقاعدہ عسکری کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اس کے بعد افغانستان میں طالبان مخالف فورسز کو ایران کی مکمل حمایت حاصل رہی اور اب بھی ہے۔ پاکستان میںشورش پھیلانے میں ایران واضح طور پر ملوث ہے اور ملک میں بد امنی پھیلانے والے عناصر کوانڈیا، ایران گٹھ جوڑ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس نے آج تک کوئی ایک بھی عسکری کارروائی ایسی نہیں کی جس میں کہیں امریکہ کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہو بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو ایران اس پورے خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا محافظ اور سہولت کار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ان دونوں کی پالیسی یہ چلی آ رہی ہے کہ دونوں نے باہمی دشمنی کے نام پر خطے کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے اور اپنی جھوٹی دشمنی کی آگ میں پورے خطے کا امن، معیشت اور ثقافت سب کچھ تباہ کر رہے ہیں جبکہ امریکا خود ایران سے اور ایران امریکا سے مکمل محفوظ ہیں۔ گویا ان کا جھگڑا ان دو پاگلوں کے جھگڑے کی مثال ہے جو اپنی لڑائی میں نقصان ہمیشہ تیسرے شخص کا کر دیتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے جھوٹے جھگڑے میں عراق جل گیا، شام تباہ ہو گیا، یمن راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ عرب ممالک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ ہر ملک کا امن شدید خطرے سے دوچار ہو گیا۔ عرب ممالک کی باہمی وحدت پارہ پارہ ہو گئی اور نہ امریکا پر کوئی آنچ آئی اور نہ ایران پر کوئی اینٹ گری۔اس ڈرامے کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ہو سکتا ہے امریکا ایران پر چند ایئراسٹرائیک کرے اور ایرانی بھی امریکی اڈوں کی جانب دو چار میزائل چلا دیں لیکن ایران کو یہ استثناء بہرحال رہے گا کہ امریکہ وہاں فوج کشی نہیں کرے گا۔ وہ امریکہ جس کی تمام تر جنگی قوت مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کے کسی بھی ملک پر معمولی معمولی بہانوں سے حملہ آور ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار کھڑی رہتی ہے ایران پر ایسا کوئی اِقدام ہرگز نہیں کرے گا۔ ہاں دنیا کی توجہ اور مسلمانوں کی ہمدردی ایران کے ساتھ رکھنے کے لئے لفظوں کی جنگ تیز تر رہے گی۔

قاسم سلیمانی نامی درندہ صفت جرنیل کو امریکا نے مار گرایا۔ بی بی سی کے مطابق یہ شخص ایران میں رہبر اعلیٰ کے بعد سب سے طاقتور سیاسی، سفارتی اور عسکری حیثیت کا حامل تھا۔ شام میں اہلسنت پر ہونے والے مظالم میں اس کا کردار سب سے نمایاں رہا اور اس نے شامی جلاد بشار کو بچانے کے لئے ہر طرح کی عسکری اور سفارتی مدد بروئے کار لائی۔ روس کو یہ شام میں لایا۔ مظلوم اہل شام کے دلوں میں اس کے متعلق کیا جذبات تھے اس کی موت پر اس کا کھل کر اظہار ہوا۔ اگر یہ دشمنی محض جھوٹ ہے تو امریکہ نے ایران کے اس قدر اہم شخصیت کو نشانہ کیوں بنایا؟

جواب بالکل واضح ہے۔ ایرانی قوم اور خصوصاً وہاں برسر اقتدار مذہبی طبقے کی تاریخ گواہ ہے لہ انہیں ہر نئی فتنہ سامانی کے لئے لاش کی ضرورت ہوتی ہے اور ماتم کی حاجت۔ لاش ایسی چاہئے ہوتی ہے جس پر ماتم خوب سج سکے اور ماتم کے اسی شور میں امت پر کوئی نئی آفت مسلط کرنا آسان ہو۔ اس وقت سلیمانی سے بھاری اور قیمتی لاش ایران کے لئے کوئی اور نہیں ہو سکتی تھی۔ لہٰذا وہ اسے فراہم کر دی گئی اور پہلے ہی ماتم میں مستقبل کے ان فتنوں کا اعلان بھی ہو گیا جن کا بپاکیا جانا منظور ہے۔

ایران نے اس لاش پر ایٹمی پروگرام کی آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ عربستان کو جنگ میں دھکیلنے کے عزم کا اظہار بھی ہو گیا اور حرمین شریفین پر سرخ جھنڈے لہرانے اور مسلکی نعرے بلند کرنے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کا اِرادہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اب زور و شور سے ماتم برپا رہے گا۔ جانبین سے غراہٹیں بلند ہوتی رہیں گی اور دانت نکوسے جاتے رہیں گے۔ اسی شور میں ایران کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان بھی ہو جائے گا اور مشرق وسطیٰ میں لگی آگ کے شعلے مزید بلند کر لئے جائیں گے۔ سینہ کوبی جاری رہے گی اور ملیشیائیں ظلم و وحشت کا کھیل کھیلتی رہیں گی۔ سخت نتائج کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی رہیں گی اور دہشت گردی سے چشم پوشی بھی جاری رہے گی۔ یوں دوستی کا عہد بھی وفا ہوتا رہے گا اور دشمنی کا پردہ بھی قائم رہے گا۔

’مرگ بر امریکا‘ کے شور میں پورے مشرق وسطی کو مرگھٹ بنانے کا کھیل بحسن و خوبی جاری رکھا جائے گا۔

سلیمانی کے قتل کے بعد کچھ لوگ کھل کر سامنے آ گئے کہ وہ اور کچھ ہیں یا نہیں، پاکستانی ہیں یا نہیں، ایرانی ضرور ہیں۔ باقی ہر نسبت اس نسبت کے بعد ہے۔ کوئی فرما رہا ہے کہ امریکا کا ایران پر حملہ عالمِ اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ گویا یہ امریکا کا عالمِ اسلام پر پہلا حملہ ہو گا۔ نہ تو عراق عالمِ اسلام کا حصہ تھا اور نہ افغانستان۔ نہ لیبیا کا عالمِ اسلام سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ صومالیہ کا۔ عالمِ اسلام ہے تو بس ایران ہے باقی تو سب ویران ہے۔

ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔

افغانستان پر امریکی حملے کے دوران صرف احتجاج کرنے والوں کو آج تک غداروں اور ملک دشمنوں کی لسٹوں پر شامل کرنے والے اِداروں کی آنکھیں اگر سلامت ہیں تو انہیں یہ ملک دشمنی کیوں نظر نہیں آ رہی ؟

مجاہدین نے پاکستان میں ایسا کچھ کرنے کا نہیں کہا تھا، افغان مجاہدین کی مدد کے عزم کا اظہار کیا تھا جس پر جماعتیں کالعدم ہوئیں ۔ کارکنان فورتھ شیڈول میں جکڑے گئے۔ اثاثے ضبط ہوئے اور تاحیات مشکوک لوگوں کی صف میں شمولیت ملی لیکن شاید جیسے امریکا بہادر سے ایران کو ایسی تمام کارروائیوں پر استثناء حاصل ہے، ایران نوازوں کے لئے بھی رسمِ دنیا یہی ہے کہ انہیں استثناء حاصل رہے گا۔

اتنا تو شاید یاد ہی ہو گا کہ مارا جانے ولا قاسم سلیمانی پاکستان کو کھلے عام دھمکیاں لگانے والا وہ دشمن تھا جس کی شکایت کرنے ہمارے آرمی چیف ایران کے صدر کے پاس گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے