بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکارکی مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ پابندیوں کو غیراآئینی قراردے دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سےمتعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم دے دیا اور کہا اختلاف رائے دبانے کیلئے دفعہ144 کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 7دن کے اندر اندر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروسز بحال کی جائیں اور دفعہ 144اٹھالیاجائے۔عدالت نے کہا اختلاف رائے دبانے کیلئے دفعہ 144نافذ نہیں کیاجاسکتا۔

ودی کی انتہاپسندی کو واضح کرتا یہ فیصلہ جسٹس رامانانے پڑھ کر سنایاانہوں نے کہاانٹرنیٹ پر پابندی ٹیلی کام قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انٹرنیٹ پر پابندی کے ہر حکم کاعدالت مکمل جائزہ لے گی۔سپریم کورٹ نے کہا’عدم اعتماد کا مطلب عدم استحکام نہیں ہے‘۔حکومت وادی بھر میں انٹرنیٹ اور اس سے متعلق تمام سروسز بحال کرے۔عدالت نے کہا حکومت تمام پابندیوں کو باقاعدہ طور پر چھاپے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 5اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعدبھارتی حکومت کی طرف سے پورے ریجن میں دفعہ 144 کے تحت مواصلاتی ناکہ بندی، انٹرنیٹ  بند اور دیگر پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن کو ختم کرنے کے حوالے سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ ان درخواستوں پر سپریم کورٹ کے جسٹس این وی رمنا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گاوائی پر مشتمل بنچ نے 27 نومبر کوفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ابض بھارتی فورسزنے مقبوضہ کشمیرمیں چھاپوں اورگرفتاریوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور کشمیریوں کونمازجمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لئے مختلف علاقوں میں رکاوٹیں اور ناکہ بندی کردی ہے۔

خیال رہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش فوری ختم کرے، پابندیوں سے کشمیری آبادی میں غصہ اور افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے