اسلام آباد:  ترجمان دفتر خارجہ نے ترکی میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ میں دو پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نعشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، باقی 23 پاکستانیوں کو بچا لیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ ترکی کے صوبے بٹلس میں کشتی حادثہ میں دو پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔ کشتی میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے 71 شہری سوار تھے۔ ان میں پاکستانیوں کی تعداد 25 تھی۔ واقعہ کے بعد ترک حکام نے سرچ اور رسیکیو آپریشن کیا۔ بدقستمی سے دو پاکستانی حادثہ میں جاں بحق ہوئے۔

مرنے والے پاکستانیوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ 23 پاکستانیوں کو ترک حکام نے ریسکیوآپریشن میں بچا لیا۔ ترکی میں پاکستانی سفارتخانہ ترک حکام کے ساتھ رابطہ میں ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کے مشرقی صوبے میں یہ حادثہ پیش آیا تھا، جہاں سات افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 64 افراد کو بچا لیا گیا۔ مرنے والوں کا تعلق پاکستان، بنگلا دیش اور افغاستان سے تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق پاکستان، بنگلا دیش، افغانستان کے تارکین وطن ایران کے راستے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جہاں سے وہ یورپ جانا چاہتے تھے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق حادثہ جھیل وین میں پیش آیا، یہ جھیل ایران کی سرحد کے بالکل قریب ہے، جہاں سے غیر قانونی طور پر پاکستان، بنگلا دیش، افغانستان کے تارکین وطن یورپ جاتے ہیں، جھیل وین سے ہوتے ہوئے بٹلس کا راستہ اپناتے ہیں ، اس راستے کو اپنانے کی بڑی وجہ سے راستے میں آنے والی چیک پوسٹوں سے بچنا ہے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوئے ہیں، یہاں سے پھر تارکین وطن مشرقی راستے سے ہوتے ہوئے یورپ کی سرحد کے قریب جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق بچ جانے والے شہریوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پر دیکھ بھال کی جا رہی ہے، سرکاری حکام کے مطابق 64 افراد میں سے چند افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

ایک افغان شہری عبدالبری منیب، جو اس حادثے میں بال بال بچے تھے، کا کہنا تھا کہ اس وقت کشتی پر 100 کے قریب افراد سوار تھے، منزل سے تقریباً سو میٹر کے قریب کشتی آگے بڑھی جہاں پر یہ حادثہ پیش آ گیا، اس دوران کچھ لوگوں کو میں نے لیٹا ہوا دیکھا جو مر چکے تھے، اس وقت وہاں پر شامی، بھارتی اور ایرانی تارکین وطن بھی موجود تھے جو ایک اور کشتی کے ذریعے وہاں سے راستہ عبور کرنے والے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے