بھارتی ریاست اترپردیش میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنا شروی کردی ہیں۔

توارکو بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظفرآباد میں متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی 50 دکانیں سیل کردی گئیں جب کہ گورکھ پور میں پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی سوشل میڈیا پر نشاندہی کرنے پرانعام کا اعلان کیا ہے جب کہ مظاہرین کی تصویریں دیواروں پر چسپاں کرنا شروع کردی ہیں۔

مودی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر پابندیوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے، بھارتی شہر جے پور میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

مودی سرکارنے ریاست جے پور میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے، میٹرو ٹرین سروس بھی بند کرا دی گئی۔

دوسری طرف آر ایس ایس کا ایجنڈا بھارت میں آگ لگانے لگا ہے، شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہنگاموں پر کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔ پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی، مودی سرکار نے کئی مسلم علاقوں کو مقبوضہ کشمیر بنا دیا۔

شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، اُتر پردیش میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 2 ہفتوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہوگئی۔

بھارت میں متنازع بل پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں، پٹنہ میں مظاہرے کے دوران کارکنوں نے رکاوٹیں توڑ ڈالیں، وشالی میں ہائی وےبلاک کر دی، ٹائر جلائے، دربھنگا میں مظاہرین نے ریلوے لائن پر قبضہ کر لیا، ریاست کرناٹک کے شہر مینگلور میں کرفیو نافذ ہے۔

ریاست اتر پردیش میں صورتِ حال کشیدہ ہے، اسکول اور کالج آج بھی بند ہیں، جب کہ بیشتر حساس اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

نئی دہلی کی جامع مسجد کے باہر بڑا مظاہرہ ہوا، دلی کے 7 میٹرو اسٹیشن بند کر دیئے گئے، پولیس نے ڈرونز کی مدد سے مظاہروں کی نگرانی کی۔

مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی مظاہرین زخمی ہو گئے، کولکتہ، چنائے، لکھنؤ، پٹنہ، ممبئی سمیت مختلف شہروں میں پولیس کی بھاری تعداد بھی احتجاج نہ روک پائی۔

متنازع شہریت بل پراحتجاج کے دوران میرٹھ میں3، بجنور میں 2، ورانسی، فیروز آباد، کان پور اور سنبھل میں 4 افراد کو گولی مار دی گئی، لکھنو میں ایک شخص اور مینگلور میں 2 افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے، آسام میں 5 افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ انہیں آزاد بھارت چاہیے، مودی ملک کا مستقبل نہیں، ملک کا مستقبل طلبہ ہیں، وہ فیصلہ کر یں گے کہ ملک کو کیسا ہونا چاہیے۔

ادھر بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج  شدت سے پریشان مودی حکومت نے بھارتی ٹی وی چینلز کو مظاہروں کی کوریج سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ منسٹری نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مواد کو دکھانے سے پرہیز کریں جس سے تشددکو ہوا ملے گی۔

بھارتی چہریت ترمیم قانون پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان کے غیر مسلم تارکینِ وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جبکہ مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016ء کے تحت شہریت سے متعلق 1955ء میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیر قانونی تارکینِ وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014ء سے قبل 3 پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلا دیش، افغانستان سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو یہ شہریت نہیں ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے