آج کی بات

گزشتہ ہفتہ کو واشنگٹن پوسٹ اخبار نے دو ہزار صفحوں پر مشتمل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی حکام افغان جنگ سے متعلق 18 سالوں کے دوران اپنی قوم سے جھوٹ بولتے رہے، اخبار نے خاص طور پر بش ، اوباما اور ٹرمپ کے نام لکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے امریکی عوام سے افغان جنگ کی اصل حقیقت کو خفیہ رکھا اور وقتا فوقتا افغان جنگ کے بارے میں اپنے لوگوں سے جھوٹ بولتے رہے ۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد بہت سے امریکی سیاستدانوں ، لکھاریوں ، افغان جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور عام شہریوں نے اپنی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جانی چاہئے ۔

افغانستان میں سابق امریکی سفیر کراکر نے بھی کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار گیا ہے اور موجودہ امریکی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد جنگ ختم کردیں ۔

امریکی قوم جو خود کو عالمی سطح پر مہذب قوم قرار دیتی ہے ، چند ارب پتی افراد کو ان کی قسمت سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، ان کے ذاتی مفادات اور جنگ کی ہوس امریکہ کے مفادات کے لئے چیلنج کریں، اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، دوسری قوموں اور لوگوں کو امریکی قوم کے خلاف اکسائیں اور امریکی شہریوں کے لئے دنیا کا ہر شہری اور ہر علاقہ دشمن بنا دیں ۔

امریکی حکام کے جھوٹ کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ افغانستان کی ناگفتہ بہ صورت حال کی ایک مثال ہے ، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں دو کھرب ڈالر خرچ کیا، اس جنگ میں اس کے 3 ہزار فوجی ہلاک اور 20000 اہل کار زخمی ہوئے ہیں، جانی اور مالی نقصانات اس کے علاوہ ہیں، علاوہ ازیں امریکہ نے یہاں لاتعداد جنگی جرائم انجام دیئے ہیں ، اخلاقی اور انتظامی بدعنوانی کو فروغ دیا، مجرموں اور قاتلوں کو سپورٹ کیا، افغان مظلوم قوم کی عزت پر یلغار کی گئی اور ان کی جدائیدادوں کو لوٹا گیا ۔

امریکی عوام کو بیدار ہونا چاہئے ، افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مذمت کریں اور ان کے خلاف آواز اٹھائیں ، امریکی فوجیوں کے فوجی انخلا کا مطالبہ کریں اور حکمرانوں کو جلد سے جلد افغان جنگ ختم کرنے پر مجبور کریں اور اپنی قوم کو افغان جنگ کا حساب دیں ۔

بشکریہ الامارہ ویب سائٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے