ترکی کے صدر رجب طیب ایردوگان نے کہا ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران فیتو دہشت گرد تنظیم کا مسئلہ ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

امریکہ روانگی سے قبل انقرہ ایسن بوعا پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر ایردوان  نے فیتو کے سرغنہ کو ترکی کے حوالے کئے جانے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پینسلوانیا میں مقیم فیتو دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ کو ہمارے حوالے کئے جانے سے متعلق اب تک ہم متعدد اقدامات کر چکے ہیں اور کرنا جاری رکھیں گے۔ جب تک ہم، حکومت پر حملہ کرنے والے سب افراد کو عدالت کی کٹہرے میں نہیں لے آتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے”۔

دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی آب و ہوا دھند آلود ہونے کے باوجود ہم مسائل کو حل کرنے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے معاملے میں  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متفق ہیں۔

انہوں نے کہا  ہے کہ ہم نے متعدد دفعہ دستاویز کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم YPG/PKK کا دہشت گرد  فرہاد  عابدی  ایک دہشت گرد ہے  اور امریکہ کا اس دہشت گرد کے ساتھ تعلق رکھنا درست نہیں ہے۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ہمارے ترجیحی موضوعات میں سے ایک ہے اور ہم سلامتی کے حوالے سے دونوں ممالک کی دلچسپی کے حامل موضوعات میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

شام میں دہشت گرد تنظیموں کی صفائی میں روس اور امریکہ کی ناکامی  کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ اور واپسی پر ٹیلی فونک ملاقات میں صدر پوتن کے ساتھ اس موضوع پر بات کروں گا۔

مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی کاروائیوں سے متعلق یورپی یونین کے روّیے  پر تنقید کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "قبرص کی پیش رفتوں سے متعلق ترکی کو ڈراوے دینے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اس کی پرواہ کئے بغیر اپنے راستے پر گامزن رہیں گے۔

شام کے شمال سے گرفتار ہونے والے داعش کے رکن دہشت گرد شہریوں کو واپس قبول کرنے سے گریزاں یورپی یونین ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ "میں آپ کو، داعش کے اس قدر زیادہ  غیر ملکی دہشت گردوں کو اپنی جیلوں میں رکھنے والے  اور یہی نہیں شام میں بھی انہیں  کنٹرول میں کرنے والے ملک ترکی کے بارے میں اپنے روّیوں پر نظر ثانی کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

داعش کے دہشت گردوں کی ان کے ملکوں کو واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم انہیں واپس بھیجنا جاری رکھیں گے۔ آگے سے یہ انہیں قبول کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔

شام میں سیف زون کی تشکیل کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ہم نے اب تک  امریکہ اور روس کے ساتھ مخلصانہ  شکل میں کام کیا ہے اور اب کے بعد بھی  اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے