اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر کرفیو اٹھانے اور گرفتار کیے گئے سیاسی رہنماؤں سے شہریوں کو رہا کرنے کی آواز اُٹھا دی ہے۔

یو این جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، بھارت کی طرف سے 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وادی کی ابتر صورتحال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ہم بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو اُٹھائے اور سیاسی رہنماؤں سمیت گرفتار شہریں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اعلامیہ میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے پرُ امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بھی بند کیا جائے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو وادی میں جانے کی اجازت دی جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر او آئی سی رابطہ گروپ کو شدید تشویش لاحق ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی او آئی سی نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر ایک مرتبہ پھر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ ماہ او آئی سی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیلی بھارت کا یکطرفہ اقدام ہے۔ یو این کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔

عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ او آئی سی یقین رکھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یو این قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے، او آئی سی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیٹ، موبائل فون، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت پائیدار مذاکرات کریں۔ یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئیں۔ مذاکرات کے ذریعے ہی خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے