لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید پر درج مقدمات کے خاتمے سے متعلق درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے. عدالت عالیہ میں جسٹس شہرام سرور اور جسٹس وحید خان پر مشتمل بینچ نے حافظ سعید اور دیگر 7 افراد کی درخواست پر سماعت کی، جس میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈکوارٹر سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا ہے.

اس دوران درخواست گزاروں کی طرف سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیے، تاہم عدالت میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا. سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں‘بعد ازاں عدالت نے حافظ سعید کی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت اور سی ٹی ڈی کو نوٹس جاری کردیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی.یاد رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یکم جولائی کو حکومت پاکستان نے حافظ سعید پر کالعدم لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کرکے مقدمہ درج کیا‘اس درخواست میں کہا گیا کہ حافظ سعید کا القاعدہ یا پھر اس جیسی کسی بھی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے. ساتھ ہی درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اپنایا گیا تھا کہ لشکر طیبہ کے ساتھ حافظ سعید کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی لابی کا بیان بھی حقائق کے منافی ہے.درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حافظ سعید ریاست مخالف اقدامات میں ملوث نہیں ہیں، ساتھ ہی یہ استدعا کی گئی تھی کہ کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ اور دیگر افراد کے خلاف درج کی گئیں ایف آئی آرز کالعدم قرار دے کر ان پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں. خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمان مکی سمیت 13 راہنماﺅں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے 2 درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے تھے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے