اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےسالوں پہلے امارت اسلامیہ افغانستان کے اعلی حکام کو اِس حال میں بلیک لسٹ میں شامل کردیے،کہ اُس وقت دنیا کے متعدد ممالک کی طرح اقوام متحدہ کی تنظیم بھی امارت اسلامیہ کے حوالے سے آگاہی اور تعارف نہیں رکھتے۔اُسی وقت امارت اسلامیہ سیکورٹی کونسل کے بعض ممالک کا یک جانبہ اور ناجائز دشمنی کا ہدف تھا۔ ہمارے خلاف من گھڑت پروپیگنڈہ اور بےبنیاد نظریہ وسیع سطح پر پھیل گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دیگر اشتباہات کی طرح بلیک لسٹ کا تنازع بھی سامنے آیا   اور امارت اسلامیہ کے متعدد اعلی حکام، سفارت کار اور فوجی کمانڈر کو  سلامتی کونسل کے بلیک لسٹ میں شامل کردیے گئے۔

امارت اسلامیہ نے ابتداء ہی میں اِس اقدام کو غیرمنصفانہ سمجھا اور سلامتی کونسل کے شرکاء کو اُن کے اِس اشتباہ کو درست کرنے کی سفارش کی۔ کیونکہ یہ لسٹ تنازع کےحل میں سودمند نہیں تھا، بلکہ اِس لسٹ نے ایک ناجائز اور غیرمنصفانہ اقدام کے طور پر صرف اقوام متحدہ کے اعتبار کو نقصان پہنچایا۔

اِس وقت چوں کہ افغان تنازع کے پُرامن حل کے مقصد سے وسیع پیمانے پر سفارتی تحریک شروع ہوئی ہے۔ امارت اسلامیہ اور امریکا کے نمائندوں نے باربار ملاقاتیں کیں ہیں۔ اسی طرح تنازع کے علاقائی اور بین الافغانی ابعاد کو مدنظر رکھتے ہوئے امارت اسلامیہ کے نمائندوں کو مختلف ممالک کے دوروں کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں،اپنے مؤقف کو  ان کے سامنے واضح کردیں اور افغان تنازع کی غرض سے اجلاسوں میں شرکت کریں۔ تو اب اِس کا وقت آں پہنچا ہے کہ بلیک لسٹ کے نام سے یہ غیرضروری سند لغوہ ہوجائے۔

اگر اقوام متحدہ کی تنظیم، سلامتی کونسل کے اعضاء اور خاص طور پر ریاستہائے متحدہ  امریکا کو افغان تنازع کے پُرامن حل پر یقین ہے،  تو مذاکرات اور افہام وتفہیم کے عمل کے بقاء اور کامیابی کے لیے بلیک لسٹ کا خاتمہ ضروری ہے۔

ہم نے مشاہدہ کیا کہ ابوظہبی اجلاس میں امارت اسلامیہ کے مذاکراتی ٹیم کے چند اعضاء اسی بلیک لسٹ کی وجہ سےمقررہ وقت پر مجلس میں شرکت نہ کرسکے۔  اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھی امارت اسلامیہ کا مذاکراتی وفد کا دورہ اسی وجہ سے مؤخر ہوا،کہ اِس طرح تاخیر اور رکاوٹ مذاکرات کے شروع ہونیوالے عمل پر منفی اثر ڈالتا ہے اور پُرامن حل کے امکانات کو للکارتا ہے۔

امارت اسلامیہ نے جس طرح ہمیشہ پُرامن حل کے حوالے اپنی نشرکردہ سرکاری مؤقف میں بلیک لسٹ کے لغوہ کرنے  اور امارت اسلامیہ کے نمائندوں کو آزادانہ سفر کا حق دینے کا مطالبہ کیا ہے،اب بھی اِس لسٹ کو پُرامن حل کے خلاف ایک حقیقی رکاوٹ سمجھتی ہے،جس کا خاتمہ صلح اور افہام وتفہیم کے موجودہ عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اِس امید سے کہ سلامتی کونسل کے اراکین ممالک اس بارے میں بےبنیاد تعلل سے دستبردار ہوجائے  اور پُرامن حل کے سامنے  اِس رکاوٹ کو ختم کردے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے